Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

LABAIK O SADAIK لبیک و سعدیک پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر علوم القرآن سے مراد وہ

SKU: 46037138038

4.6
USD425.00 USD456.00

Pay in 4 interest-free payments of $106.25 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 11 - Aug 16

Description

علوم القرآن  سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں  او رجن  کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا  ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن  کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات  وغیرہ  ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول  تفسیر  سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن  کے مباحث  کی ابتداء عہد نبوی  اور دورِ صحابہ کرام سے  ہو چکی  تھی  تاہم  دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد  میں ہوا۔ قرآن کریم   کو سمجھنے اور سمجھانے کے بنیادی اصول اور ضابطے یہی ہیں کہ قرآن کریم کو قرآنی اور نبوی علوم کی روشنی میں ہی سمجھا جائے۔علوم قرآن کو    اکثر جامعات و مدارس میں  بطور مادہ پڑھا پڑھایا جاتا ہے اوراس کے متعلق عربی  اردو  زبان میں  بیسیوں کتب موجود ہیں ۔

none of these factors is either definitive or destiny

Brian Cloughley explores the underbelly of Pakistan’s military and its controversial role within the Pakistani government since Zulfikar Ali Bhutto came to power in 1971

اُن کی زیرنظر کتاب سماج کے ان معاملات کا احاطہ کرتی ہے جس پر ہمارے ہاں کم ہی لکھا جارہا ہے۔ وہ ترقی پسند فکر رکھنے والے دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں، اسی لیے سماج کے اندر برپارحجانات کو وہ سیاست سے علیحدہ تصور نہیں کر سکتے۔ فرخ سہیل گوئندی کی تحریریں پاکستانی سماج کے ان تضادات کو بے نقاب کرتی ہیں جن کے سبب ہمارا سماج پسماندگی میں دھنسا ہوا ہے۔ یہ کتاب ایسے ہی موضوعات سے متعلق ہے، خصوصاً ان کا یہ کہنا کہ ریاست کابکھرنا اتنا خطرناک نہیں جس قدر سماج کا بکھر جانا خطرناک ہے۔ وہ درست کہتے ہیں کہ جہاں ریاستیں بکھر گئیں وہاں اس قدر نقصان نہ ہوا، جس قدر نقصان سماج کے بکھرنے کا ہے۔ اس حوالے سے یہ کتاب آج کے حالات میں ایک منفرد موضوع ہے۔ فرخ سہیل گوئندی نے اس کتاب میں پاکستان کی نیم سرمایہ دارانہ، نیم جاگیردارانہ، نیم قبائلی سماج کے تضادات کو جس خوبی سے بیان کیا ہے، یہ انہی کا کمال ہے۔ انہوں نے اس عمل کو کولمبیننائزیشن قرار دیا ہے اور حیران کن اور متاثرکن بات یہ ہے کہ اس حوالے سے انہوں نے دو دہائیوں قبل نشاندہی کرنا شروع کر دی تھی۔ ”بکھرتا سماج“ اس موضوع پر ایک اہم کتاب کے طور پر جانی جائے گی کہ ایک ایسی ریاست جس کی رِٹ بکھرنے سے زیادہ خطرناک رجحان سماج کے بکھرنے کا ہے اور ریاست کی رِٹ کی جگہ منظم مجرم، دہشت گرد مسلح گروہ لے رہے ہیں جو اس سماج کے بکھرنے پر غالب ہونے کی طاقت حاصل کرتے چلے جارہے ہیں۔

LABAIK O SADAIK لبیک و سعدیک پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر علوم القرآن سے مراد وہ1922 1930 1938 ( ) ( )

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products